Ubla Anda

اُبلا انڈہ ۔۔۔

پُوری سردی

آدھے کپڑے

اِک غربت کا مارا بچّہ

اُبلے انڈے بیچ رہا تھا

ٹھٹھری ہوٸی آواز جب اُس کی

میری کار کے اندر آٸی

میں جو اُس پوری سردی میں

پورے کپڑے پہنے اپنی

کار میں ہیٹر کے آگے تھا

میں نے بھی اِک اُبلا انڈہ

گرم فضا میں بیٹھ کے کھایا

جو اُس پیارے سے بچّے نے

سرد ہوا میں

سڑک کنارے

کانپتے ہاتھوں سے چِھیلا تھا

پیسے دیتے دیتے میں نے

جب بچّے کو غور سے دیکھا

پوری سردی

آدھے کپڑے

اُف!!!

نِیلے ہونٹوں والا بچّہ

سرد ہوا میں کانپ رہا تھا

بچپن اُس کا ہانپ رہا تھا

میں نے اُس کی حالت دیکھی

اور کہا کہ بیٹا تم بھی

اِک انڈہ کھا لو تو کیا ہے

وہ بولا کہ توبہ انکل!

بِیس روپے کا مہنگا انڈہ

میں کیسے کھا سکتا ہوں؟

جبار واصف

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(825) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jabbar Wasif, Ubla Anda in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad, Social, Heart Broken Urdu Poetry. Also there are 30 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad, Social, Heart Broken poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jabbar Wasif.