Dil Main Betha Tha Aik Dar Shaid

دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شاید

دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شاید

آج بھی ہے وہ ہم سفر شاید

ہاتھ پتھر سے ہو گئے خالی

پیڑ پر ہے نہیں ثمر شاید

ڈھونڈھتا تھا وجود اپنا وہ

تھا ادھر اب گیا ادھر شاید

سرخیاں اگ رہی ہیں دامن پر

ہو گیا ہاتھ خوں سے تر شاید

پھول الفت کے کھل رہے ہوں جہاں

ہوگا ایسا بھی اک نگر شاید

بیکلی بڑھ گئی ہے دریا کی

کہہ گیا جھک کے کچھ شجر شاید

درد کا ہو گیا ہے مسکن وہ

لوگ کہتے ہیں جس کو گھر شاید

مل کے ان سے خوشی ہوئی مجھ کو

وہ بھی ہوں گے تو خوش مگر شاید

روتے روتے ہنسی مری خواہش

مل گئی اک نئی خبر شاید

دن کا کٹنا محال ہے تو سہی

رات ہو جائے گی بسر شاید

آگ پانی میں جو لگاتا ہے

وہ بھی ہوگا کوئی بشر شاید

صحن دل سے خوشی نہیں گزری

راستہ تھا وہ پر خطر شاید

دھوپ کے گھر گھٹا گئی جعفرؔ

خشک کرنے کو بال و پر شاید

جعفر ساہنی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(336) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jafar Sahni, Dil Main Betha Tha Aik Dar Shaid in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 38 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jafar Sahni.