Sitam Hai Mbtlaye Ishq Ho Jana Jawaa Ho Kar

ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر

ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر

ہمارے باغ ہستی میں بہار آئی خزاں ہو کر

جوانی کی دعائیں مانگی جاتی تھیں لڑکپن میں

لڑکپن کے مزے اب یاد آتے ہیں جواں ہو کر

خدا رکھے دل مایوس میں امید باقی ہے

یہی گل ہے جو بو دیتا ہے پامال خزاں ہو کر

مجھے شبنم بنا رکھا ہے ان خورشید رویوں نے

رلاتے ہیں نہاں ہو کر مٹاتے ہیں عیاں ہو کر

ہمیں وہ تھے کہ ہوتی تھی بسر پھولوں کے غنچے میں

ہمیں اب اے فلک تنکے چنیں بے آشیاں ہو کر

در جاناں کے آگے کب تحیر بڑھنے دیتا ہے

جو آتا ہے وہ رہ جاتا ہے سنگ آستاں ہو کر

نہال شمع میں کیا خوشنما اک پھول آیا تھا

ستم ڈھایا نسیم صبح نے باد خزاں ہو کر

تقاضا سن کا بھی اللہ کیا شے ہے کہ یوسف سے

زلیخا ناز کرتی ہے نئے سر سے جواں ہو کر

جلیلؔ آخر جو کی ہے شاعری کچھ کام بھی نکلے

کسی بت کو مسخر کیجیے معجز بیاں ہو کر

جلیلؔ مانک پوری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(525) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of JALEEL MANIKPURI, Sitam Hai Mbtlaye Ishq Ho Jana Jawaa Ho Kar in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 66 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of JALEEL MANIKPURI.