Fasana E Adam

فسانۂ آدم

میں تھا ضمیر مشیت میں ایک عزم جلیل

ہنوز شوق کی کروٹ بھی لی نہ تھی میں نے

کہ دفعتاً متحرک ہوئے لب تخلیق

پکڑ لی صورت ظاہر وجود کی میں نے

وہ صبح عالم حیرت وہ جلوہ زار بہشت

ہوا چمن کی لگی آنکھ کھول دی میں نے

وہ تربیت گاہ ذوق نظر، وہ وادئ نور

جہاں سے پائی محبت کی روشنی میں نے

وہ عنفوان تمنا وہ ابتدائے جنوں

وہ اک خلش جسے سمجھا تھا زندگی میں نے

کیا سرور نے اک عالم دگر پیدا

چرا کے پی جو مۓ سرکش خودی میں نے

خودی کے نشے میں اللہ رے بے خودی میری

بدن سے چادر عصمت بھی پھینک دی میں نے

ہوا حدود نظر سے نکل کے آوارہ

ہوائے شوق میں جنت بھی چھوڑ دی میں نے

فرشتے رہ گئے حیرت سے دیکھتے مجھ کو

نہ کی قبول مشیت کی رہبری میں نے

دلیل راہ بنی اپنی گرمئ پرواز

کہ طاقت پر جبریل چھین لی میں نے

بڑھیں ستاروں کی دنیائیں میرے لینے کو

اتر کے عرش سے نیچے نظر جو کی میں نے

مگر زمیں کی کشش نے سوئے زمیں کھینچا

کیا پسند یہ زندان عنصری میں نے

جگہ ملی جو تڑپنے کی بے قراری کو

تو پھر حدود میں وسعت کی داد دی میں نے

ہوا تلاطم ہستی بہ عالم ذرات

چھڑک دی خاک بیاباں پہ زندگی میں نے

نمو کے جوش سے سودائے رنگ و بو نکلا

زمیں کے دل کی تمنا نکال دی میں نے

ہوئیں جہان عمل میں شریعتیں پیدا

خدا کے نام پہ برپا جو کی خودی میں نے

کبھی جلائی اندھیرے میں شمع علم و عمل

کبھی بجھا دی ہدایت کی روشنی میں نے

کبھی بگاڑ کے رکھ دیں ثواب کی شکلیں

کبھی بدل دی حقیقت گناہ کی میں نے

بڑھا تو رہ گیا پیچھے مرے زمانۂ حال

رکا تو وقت کی رفتہ روک دی میں نے

زمیں پہ شوق کے فتنے بچھا دیے ہر سو

فضا میں نیند کی مستی بکھیر دی میں نے

کبھی جگا دی قیامت نفس کی ٹھوکر سے

اٹھا کے صور سرافیل زندگی میں نے

جنوں کے جوش میں پردے نظر کے چاک کیے

نقاب نوچ کے فطرت کی پھینک دی میں نے

قبائے لیلئ تہذیب چاک کر ڈالی

ردائے مریم عصمت اتار لی میں نے

مزاج آتش سوزاں کو کر دیا ٹھنڈا

مچا دی بزم عناصر میں کھلبلی میں نے

لیا شہنشۂ خاور سے روشنی کا خراج

کیا اسیر طبیعت کو برق کی میں نے

بہ انقلاب طبیعت مزاج آہن کو

ہوا کی گرمیٔ پرواز بخش دی میں نے

بلندیوں کا تصور بھی رہ گیا پیچھے

پہنچ کے اتنی بلندی پہ سانس لی میں نے

ٹھٹک گئیں جو نگاہیں قریب ھجلۂ قدس

پس حجاب ادب یہ صدا سنی میں نے

کہ اے حریف مشیت بہ وعدہ گاہ ازل

ٹھہر ٹھہر تری پرواز دیکھ لی میں نے

جمیل مظہری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(853) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Fasana E Adam by Jameel Mazhari - Read Jameel Mazhari's best Shayari Fasana E Adam at UrduPoint. Here you can read the best poetry Fasana E Adam of Jameel Mazhari. Fasana E Adam is the most famous poetry by Jameel Mazhari. People love to read poetry by Jameel Mazhari, and Fasana E Adam by Jameel Mazhari is best among the whole collection of poetry by Jameel Mazhari.

Jameel Mazhari is the most famous Urdu Poet. Therefore, people love to read Urdu Poetry of Jameel Mazhari. At UrduPoint, you can find the complete collection of Urdu Poetry of Jameel Mazhari. On this page, you can read Fasana E Adam by Jameel Mazhari. Fasana E Adam is the best poetry by Jameel Mazhari.

Read the Jameel Mazhari's best poetry Fasana E Adam here at UrduPoint; you will surely like it. If we make a list of Jameel Mazhari's best Shayari, Fasana E Adam of Jameel Mazhari will be at the top. Many people, who love the Urdu Shayari of Jameel Mazhari, regard it as the best poetry Fasana E Adam of Jameel Mazhari.

We recommend you read the most famous poetry, Fasana E Adam of Jameel Mazhari here, you will surely love it. Also, don't forget to share it with others.