Dasht E Amrooz Main

دشتِ امروز میں

بستی سے ہٹ کر

نخلستانی کھجورو ں کے

سربفلک پیڑوں کے جھنڈ میں

اوس میں بھیگی ریت پر

کُخ کا بچھونا بچھانے

اور گاؤ تکیہ لگانے سے پہلے

میں نے اپنے سیاہ مشکی کی زین

اتار دی ہے

اور

اپنے غلام کو

اُس رستے کی نگہبانی پر مامور کر دیا ہے

جو تیرے پہلے قدم کی

خوشبو بکھرنے کا منتظر ہے

اکیسویں رات کا چاند ڈھل چکا ہے

صحرا کی پرہیبت خاموشی میں

ریت پر ہوا کے ہاتھوں

سرگم کی طرح کھنچی لکیریں

زیر لب گنگنا رہی ہیں

دُور تک پھیلی جھاڑیوں میں

سرسراتے سانپوں کی پھنکار

اُن کے سُروں میں

اپنے سُر ملا رہی ہے!

ستاروں بھرے اِس آسمان کے تلے

جو کبھی اکیلا نہیں ہوتا

ہماری بے ریامحبت کی قسم کھاتے ہوئے

اِ ن لمحوں میں

مجھ سے آخری مرتبہ ہمکنار ہو

اے مری عم زاد آ

آ۔اورمجھے الوداعی بوسہ دے!

کل صبح تجھے

قبیلے کے سردار سے بیاہ دیاجائے گا

جس کی یکتا خوبی یہی ہے

کہ اُس کی غیر مزروع آنکھوں میں

خواب کاشت نہیں ہوتے

لیکن

اُس کی حمایت میں اٹھنے والی تلواریں

دولت و طاقت کو

باہم آمیز کرنے کا ہنر جانتی ہیں!

محبت کے ناموس کا بھرم رکھنے کے لئے

مجھے ہجر کی اذیّت یاصحرا کی طرح

تنہا ہونے سے ڈر نہیں لگتا

مگر بچھڑنے کی اُس ساعت سے

خوف آتا ہے

جو دلوں کے درمیان

دولت و طاقت کے ارتکاز سے

ایک دیوار اٹھا دیتی ہے!

اے مری عم زاد

دولت و طاقت کا اندھا ارتکاز

ہر خوبصورتی کو تباہ کر سکتا ہے

کائینات خوبصورت نہیں رہتی

انسان خوبصورت نہیں رہتا

شاعری خوبصورت نہیں رہتی

یہاں تک کہ کبھی کبھی

ایک زندہ خالق کا وجود بھی

کسی غلیظ کہانی کا

ایک مکروہ کردارمحسوس ہوتا ہے!

یہ غیر مزروع آنکھوں کے مالک

بلا کھٹکے

کسی بھی خوبصورت شے کو

تباہ کر سکتے ہیں

اور شیطان کی کھسیانی مگرزخمی مسکراہٹ

اُس کے عارض پر جمے آنسوؤں کو

کھرچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی

اُسے صرف

گمراہ کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی

تباہ کرنے کا اختیار نہیں

وہ جان چکا ہے

یہ اُس کا نہیں

اُن با اختیار غارت گروں کا عہد ہے

جنہوں نے تباہی کو

ایک قدر میں بدل دیا ہے

!

عدل ،نیکی ،قربانی اور مروّت کی کوئی دیگ

اب کسی روشن الاؤ پر نہیں

اُنہیں کب کا الٹادیا گیا ہے

اور جو پکوان

فطرت کے لنگر سے تقسیم کیا جاتا تھا

اُس میں استحصال اور جبر کا زہر ملا ہے

!

عامر بن قیس کا خیمہ خالی ہے

لیکن اُس کی آواز کی گونج

اُس کے خیمے کے پردوں سے

ابھی تک رس رہی ہے!

نہیں،،

میں تجھے کھو کر

بے موت نہیں مروں گا

کیونکہ موت اُس بڑھیا کی طرح نہیں

جو سوت کی انٹی لے کر

یوسف کو خریدنے نکلے اور ناکام لوٹ آئے

موت گوہر و خذف میں تمیز نہیں کرتی

وہ زندگی کی ہر دکان سے

اپنی مرضی کی شے منتخب کرنے

اور اُسے ہتھیا لینے پر قادر ہے

میں اُس کا انتظار کروں گا!

اے مری عم زاد

اپنے حجرے کے

کسی گوشے میں چھپ کر

اندھیرے میں آئینوں کے روبرو

ماتم نہ کر

آ۔اور مجھے بوسہ دے

میں ترے بحفاظت گھر پہنچنے کے لئے

اپنے غلام کو تیرے ہمراہ کروں گا

سانپوں کو اپنے گھوڑے کے

آہنی سموں تلےکچلوں گا

اور پھر اپنے مشکی کو ذبح کر کے

اُس کا خون آبِ دم کی طرح

تری واپسی کی راہ میں چھڑک کر

تجھے الوداع کہوں گا!

جب سونے کا کوئی کنگن

کسی جڑاؤ خنجر کے پھل میں پرو کر

کھجور کے پیڑ کے دل میں

گھونپ دیا جائے گا

حدی خوانوں کی آوازیں

خالی محملوں کا طواف کریں گی

کسی کوچے سے ہو کرآتی

ہوا کے ہاتھ سے

خون آلود رومال میں بندھی

انگوٹھی گرے گی

جب کسی گجرے سے

کوئی جھڑا ہوا پھول ملے گا

جب کوئی

زخمی ہرن

دُور صحرا میں

درد کی شدّت سے چلّائے گا

میں

سہیل کی مدھم پڑتی لو میں

،،تجھے یاد کروں گا

جمیل الرحمان

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(599) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jameel Ur Rahman, Dasht E Amrooz Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 68 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jameel Ur Rahman.