Jo Zindagi Bachi Hai Usay Mat Ganwaiye

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے

بہتر یہ ہے کہ آپ مجھے بھول جائیے

ہر آن اک جدائی ہے خود اپنے آپ سے

ہر آن کا ہے زخم جو ہر آن کھائیے

تھی مشورت کی ہم کو بسانا ہے گھر نیا

دل نے کہا کہ میرے در و بام ڈھائیے

تھوکا ہے میں نے خون ہمیشہ مذاق میں

میرا مذاق آپ ہمیشہ اڑائیے

ہرگز مرے حضور کبھی آئیے نہ آپ

اور آئیے اگر تو خدا بن کے آئیے

اب کوئی بھی نہیں ہے کوئی دل محلے میں

کس کس گلی میں جائیے اور گل مچائیے

اک طور دہ صدی تھا جو بے طور ہو گیا

اب جنتری بجائیے تاریخ گائیے

اک لال قلعہ تھا جو میاں زرد پڑ گیا

اب رنگ ریز کون سے کس جا سے لائیے

شاعر ہے آپ یعنی کہ سستے لطیف گو

رشتوں کو دل سے روئیے سب کو ہنسائیے

جو حالتوں کا دور تھا وہ تو گزر گیا

دل کو جلا چکے ہیں سو اب گھر جلائیے

اب کیا فریب دیجیے اور کس کو دیجیے

اب کیا فریب کھائیے اور کس سے کھائیے

ہے یاد پر مدار میرے کاروبار کا

ہے عرض آپ مجھ کو بہت یاد آئیے

بس فائلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب

مصرعہ یہ جونؔ کا ہے اسے مت اٹھائیے

جون ایلیا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2326) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jaun Elia, Jo Zindagi Bachi Hai Usay Mat Ganwaiye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 195 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jaun Elia.