Kaam Mujh Se Koi -howa Hi Nahi

کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں

کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں

بات یہ ہے کہ میں تو تھا ہی نہیں

مجھ سے بچھڑی جو موج نکہت یار

پھر میں اس شہر میں رہا ہی نہیں

کس طرح ترک مدعا کیجے

جب کوئی اپنا مدعا ہی نہیں

کون ہوں میں جو رائیگاں ہی گیا

کون تھا جو کبھی ملا ہی نہیں

ہوں عجب عیش غم کی حالت میں

اب کسی سے کوئی گلہ ہی نہیں

بات ہے راستے پہ جانے کی

اور جانے کا راستہ ہی نہیں

ہے خدا ہی پہ منحصر ہر بات

اور آفت یہ ہے خدا ہی نہیں

دل کی دنیا کچھ اور ہی ہوتی

کیا کہیں اپنا بس چلا ہی نہیں

اب تو مشکل ہے زندگی دل کی

یعنی اب کوئی ماجرا ہی نہیں

ہر طرف ایک حشر برپا ہے

جونؔ خود سے نکل کے جا ہی نہیں

موج آتی تھی ٹھہرنے کی جہاں

اب وہاں خیمۂ صبا ہی نہیں

جون ایلیا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1509) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jaun Elia, Kaam Mujh Se Koi -howa Hi Nahi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 195 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jaun Elia.