Kisi Se Koi Khafa Bhi Nahi Raha Ab To

کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو

کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو

گلا کرو کہ گلا بھی نہیں رہا اب تو

وہ کاہشیں ہیں کہ عیش جنوں تو کیا یعنی

غرور ذہن رسا بھی نہیں رہا اب تو

شکست ذات کا اقرار اور کیا ہوگا

کہ ادعائے وفا بھی نہیں رہا اب تو

چنے ہوئے ہیں لبوں پر ترے ہزار جواب

شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا اب تو

ہوں مبتلائے یقیں میری مشکلیں مت پوچھ

گمان عقدہ کشا بھی نہیں رہا اب تو

مرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی

میں اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو

یہی عطیۂ صبح شب وصال ہے کیا

کہ سحر ناز و ادا بھی نہیں رہا اب تو

یقین کر جو تری آرزو میں تھا پہلے

وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو

وہ سکھ وہاں کہ خدا کی ہیں بخششیں کیا کیا

یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو

جون ایلیا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2832) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jaun Elia, Kisi Se Koi Khafa Bhi Nahi Raha Ab To in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 195 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jaun Elia.