Javed Shaheen Poetry, Javed Shaheen Shayari

جاوید شاہین - Javed Shaheen

1932 چندی گڑھ

مشہور شاعر جاوید شاہین کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

کنار دشت اکیلے ٹھہرنے پر ہوگا

جاوید شاہین

کشاکش غم ہستی میں کوئی کیا سنتا

جاوید شاہین

کس طرح بے موج اور خالی روانی سے ہوا

جاوید شاہین

فقط اس ایک الجھن میں وہ پیاسا دور تک آیا

جاوید شاہین

سفر کا خواب تھا، آب رواں پہ رکھا تھا

جاوید شاہین

سڑکوں پہ بہت خلق خدا دیکھتے رہنا

جاوید شاہین

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

جاوید شاہین

چڑھا پانی ذرا تو اپنے دھارے سے نکل آیا

جاوید شاہین

جو برف زار چیر دے ایسی کرن بھی لا

جاوید شاہین

جدا تھی بام سے دیوار، در اکیلا تھا

جاوید شاہین

آشنا کتنا زباں کو بے زبانی سے کیا

جاوید شاہین

اجنبی بود و باش کے قرب و جوار میں ملا

جاوید شاہین