Banti Nahi Hai Garchey Mere Aftab Se

بنتی نہیں ہے گرچہ مری آفتاب سے

بنتی نہیں ہے گرچہ مری آفتاب سے

پھر بھی میں دور رہتا ہوں شب کی جناب سے

اِن دو، سِروں کے بیچ زیادہ ہیں وہ جنہیں

عریانیت سے کام نہ مطلب نقاب سے

ہم نے خود اپنے آگے ہی ڈالی ہے جب سپر

پھر ہم لگے ہیں خود کو ذرا کامیاب سے

ہر انقلاب سے ہمیں امید یہ رہی

آئے گا انقلاب اِسی انقلاب سے

حتمی نہیں ہے رائے مگر یہ گمان ہے

جنت ذرا سی کم ہے کسی کے شباب سے

سوچا ہے اب ہمیشہ لگا کر رکھیں گے دل

کتنا سکون ملتا ہے اِس اضطراب سے

بازارِ دل کے دیکھیے سودے عجیب ہیں

ملتا ہے آسمان زمیں کے حساب سے

کیا سوچ کے یہ لکھنے لگے دوسری میاں

اخترؔ ملا ہے کیا تمھیں پہلی کتاب سے

جنید اختر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(500) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Junaid Akhter, Banti Nahi Hai Garchey Mere Aftab Se in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 41 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Junaid Akhter.