Tan Tanha Maqabil Ho Raha Hon Mein Hazaron Se

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے

انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سے

شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے

سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے

پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے

ہمارے داغ دل زخم جگر کچھ ملتے جلتے ہیں

گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے

کبھی ہوتا نہیں محسوس وہ یوں قتل کرتے ہیں

نگاہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے

ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے

کنوؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے

نہ آئے پر نہ آئے وہ انہیں کیا کیا خبر بھیجی

لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے

زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں

امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے

وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا

دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے

کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے

مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

کیف بھوپالی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(488) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Kaif Bhopali, Tan Tanha Maqabil Ho Raha Hon Mein Hazaron Se in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 52 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Kaif Bhopali.