Bolatay Kyun Ho Aajiz Ko Bulana Kya Maza Day Hai

بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے

بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے

غزل کم بخت کچھ ایسی پڑھے ہے دل ہلا دے ہے

محبت کیا بلا ہے چین لینا ہی بھلا دے ہے

ذرا بھی آنکھ جھپکے ہے تو بیتابی جگا دے ہے

ترے ہاتھوں کی سرخی خود ثبوت اس بات کا دے ہے

کہ جو کہہ دے ہے دیوانہ وہ کر کے بھی دکھا دے ہے

غضب کی فتنہ سازی آئے ہے اس آفت جاں کو

شرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگا دے ہے

مری بربادیوں کا ڈال کر الزام دنیا پر

وہ ظالم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دے ہے

اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھو

لگے ہے آگ اک گھر میں تو ہم سایہ ہوا دے ہے

کلیجہ تھام کر سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں

مرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزا دے ہے

کلیم عاجز

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(452) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Kaleem Aajiz, Bolatay Kyun Ho Aajiz Ko Bulana Kya Maza Day Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 79 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Kaleem Aajiz.