کلیم عاجز کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے

کلیم عاجز

دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹ

کلیم عاجز

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

کلیم عاجز

دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے

کلیم عاجز

دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹ

کلیم عاجز

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

کلیم عاجز

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ

کلیم عاجز

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

کلیم عاجز

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا

کلیم عاجز

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ

کلیم عاجز

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

کلیم عاجز

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا

کلیم عاجز

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

کلیم عاجز

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں

کلیم عاجز

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

کلیم عاجز

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں

کلیم عاجز

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

کلیم عاجز

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں

کلیم عاجز

بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا

کلیم عاجز

بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ

کلیم عاجز

اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا میں

کلیم عاجز

اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ

کلیم عاجز

انہیں کے گیت زمانے میں گائے جائیں گے

کلیم عاجز

اپنا دل سینۂ اشعار میں رکھ دیتے ہیں

کلیم عاجز

Records 1 To 24 (Total 61 Records)