Bacha Ke Rakha Hai Jis Ko Ghuroob Jaan Ke Liye

بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

یہ ایک صبح تو ہے سیر بوستاں کے لئے

چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی

فراغتیں بھی اس اک صدق رائیگاں کے لئے

لکھے ہیں لوحوں پر جو مردہ لفظ ان میں جئیں

اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لئے

پکارتی رہی بنسی بھٹک گئے ریوڑ

نئے گیاہ نئے چشمۂ‌ رواں کے لئے

سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لئے

درخت ابر ہوا بوئے ہمرہاں کے لئے

سواد نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے

کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لئے

تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر

میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لئے

ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس

جو میرے دل میں ہے اس شہر بے مکاں کے لئے

یہ نین جلتی لوؤں جیتی نیکیوں والے

گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارض جاں کے لئے

ضمیر خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجدؔ

کہ نیند مجھ کو ملی خواب رفتگاں کے لئے

مجید امجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2092) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majeed Amjad, Bacha Ke Rakha Hai Jis Ko Ghuroob Jaan Ke Liye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a , and the type of this Nazam is Urdu Poetry. Also there are 78 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majeed Amjad.