Har Janib Hain

ہر جانب ہیں

ہر جانب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ ہزاروں گھنی بھوؤں کے نیچے

گھات میں

اب تو میرے لبوں تک آ بھی حرف زندہ

ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں بے ستر ہراساں کھڑی ہیں روحیں

قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی

ابھی ابھی اک پل کو

اور اب پھر کالے طوفاں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیں

ان کو زندہ رکھیو حرف زندہ

مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں اے حرف زندہ

اب تو میرے لبوں پر آ بھی

اب جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفاں والے لفظوں کا آبی فرش

اک

بچھ بچھ گیا ہے دور افق کے پیچھے کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤں

کے بجرے تیرے تھے

میرے نسیانوں میں جہندہ حرف زندہ

تیرے معنوں میں مواج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیں

اب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے وہ میں ہوں

اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا میں ہوں

مجید امجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1291) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majeed Amjad, Har Janib Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 78 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majeed Amjad.