Har Saal In Subahon

ہر سال ان صبحوں

ہر سال ان صبحوں کے سفر میں اک دن ایسا بھی آتا ہے

جب پل بھر کو ذرا سرک جاتے ہیں میری کھڑکی کے آگے سے گھومتے گھومتے

سات کروڑ کرے اور سورج کے پیلے پھولوں والی پھلواڑی سے اک پتی اڑ کر

میرے میز پر آ گرتی ہے

ان جنباں جہتوں میں ساکن

تب اتنے میں سات کروڑ کرے پھر پاتالوں سے ابھر کر اور کھڑکی کے سامنے آ کر

دھوپ کی اس چوکور سی ٹکڑی کو گہنا دیتے ہیں

آنے والے برس تک

اس کمرے تک واپس آنے میں مجھ کو اک دن اس کو ایک برس لگتا ہے

آج بھی اک ایسا ہی دن ہے

ابھی ابھی اک آڑی ترچھی روشن سیڑھی صد ہا زاویوں کی پل بھر کو جھک آئی تھی

اس کھڑکی تک

ایک لرزتی ہوئی موجودگی اس سیڑھی سے ابھی ابھی اس کمرے میں اتری تھی

برس برس ہونے کے پرتو کی یہ ایک پرت اس میز پر دم بھر یوں ڈھلتی ہے

جانے باہر اس ہونی کے ہست میں کیا کیا کچھ ہے

آج یہ اپنے پاؤں تو پاتالوں میں گڑے ہوئے ہیں

مجید امجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1824) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majeed Amjad, Har Saal In Subahon in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 78 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majeed Amjad.