Dil Ki Zameen Ko Wajad Main Laya Nahi Giya

دل کی زمیں کو وجد میں لایا نہیں گیا

دل کی زمیں کو وجد میں لایا نہیں گیا

اک عشق تھا جو ہم سے کمایا نہیں گیا

اندر کی آگ بولتی ہے شعر میں میاں

سو شعر بن گیا ہے بنایا نہیں گیا

کچھ ماہ قبل مر گیا اک اور بے گنہ

بر وقت فیصلہ جو سنایا نہیں گیا

بے حس عوام خود کشی کو دیکھتے رہے

جلتے ہوئے بشر کو بچایا نہیں گیا

مجرم پکڑ لیا ہے مچایا گیا یہ شور

قاتل کا چہرہ مجھ کو دکھایا نہیں گیا

لاغر بدن تھا حادثوں کی زد میں آگیا

اپنا بھی بوجھ مجھ سے اٹھایا نہیں گیا

رکھا قلم کا پاس تو فاقے بھی آگئے

لیکن کسی کے در پہ خدایا نہیں گیا

ہم تو صداقتوں کے ازل سے امین ہیں

دھوکے سے وار کرنا سکھایا نہیں گیا

یہ جرم بھی ادیب کے کھاتے میں آئے گا

انسان سو رہا تھا جگایا نہیں گیا

کہتی ہے رب کی ذات بھی ماجد یہ بارہا

خاکی گرا ہے خود ہی گرایا نہیں گیا

ماجد جہانگیر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(407) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majid Jahangir, Dil Ki Zameen Ko Wajad Main Laya Nahi Giya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 54 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majid Jahangir.