Kurb Bharta Ja Raha Hai Bam O Dar Ko Dekh Kar

کرب بڑھتا جا رہا ہےبام و در کو دیکھ کر

کرب بڑھتا جا رہا ہےبام و در کو دیکھ کر

میں مسلسل رو رہا ہوں اپنے گھرکو دیکھ کر

کیا عجب میلہ لگا ہے دہر کے میدان میں

آدمیت دم بخود ہے خیر و شر کو دیکھ کر

ورطہ ء حیرت میں ہیں تاریخ کے اوراق بھی

نیزے پر قرآن پڑھتےایک سر کو دیکھ کر

کامیابی کے لیے تو آزمائش شرط ہے

اور تو کھینچے قدم نادیدہ ڈر کو دیکھ کر

دوررکھ اس سے خدایا اشک کی سوغات کو

جسم میرا چیختا ہے چشمِ تر کو دیکھ کر

اس ڈگر کے کچھ مسافر سو رہے ہیں قبر میں

یاد کیا کچھ آرہا ہے رہ گزر کو دیکھ کر

چند سانسوں پر ہی تکیہ کر رہا ہوں آجکل

گھورتی ہے زندگی زادِ سفر کو دیکھ کر

سازشوں کی بُوعیاں ماجد ہوئی افلاک سے

ہنس رہے ہیں سب ملائک در بدر کو دیکھ کر

ماجد جہانگیر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(327) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majid Jahangir, Kurb Bharta Ja Raha Hai Bam O Dar Ko Dekh Kar in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 54 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majid Jahangir.