Zameer Apna Nahi Becha

ضمیر اپنا نہیں بیچا

مرے احباب کہتے ہیں

تماری عمر ہی کیا ہے

تمھیں کس بات کا غم ہے

تماری ساری تحریریں

بلا کا درد رکھتی ہیں

سبھی اشعار میں رقصاں

حقیقت ہی حقیقت ہے

بجا ہے مان لیتے ہیں

مگر ماجد زمانے میں مضامیں اور بھی تو ہیں

کبھی تو زلفِ جانان پر دکھا جوہر قلم کے تو

کبھی تو مرمریں بانہیں کبھی تو ہجر کی آہیں

فراق و وصل کی راہوں کے بارے میں بھی کچھ لکھو

میں سب کی بات سنتا ہوں خیال آتا ہے یہ دل میں

کوئی شاعر کوئی ناقد مجھَےاتنا تو بتلائے

جہاں ہر سو دھماکے ہوں گھروں میں روز فاقے ہوں

کوئی مسجد کوئِی مندر کوئی گرجا جہاں پر روز جلتا ہو

سڑک پر چلتے بندوں کو جلایا جاتا ہو زندہ

جہاں لاشوں کا ہو دھندہ

درندے دندناتے اور حاکم قہر ڈھاتے ہوں

بنا سوچے بنا سمجھے بنا تحقیق کے مجھ پر

کوئی فتوی لگاتا ہے کوئی آنکھیں دکھاتا ہے

بتاو ایسے عالم میں

میں کیسے زلف جاناں پر کوئی تحریر لکھ ڈالوں

نئی اک ہیر لکھ ڈالوں

یہ میرا ہمنوا شاعر کمی کو پورا کر دے گا

مگر مجھ کو تو ستر سال سے سوئَے ہوئے مردے جگانے ہیں

خدا پوچھے گا جب مجھ سے تو باندھے ہاتھ کہہ دوں گا

جو دیکھا تھا وہی لکھا قلم سے شر کو ہے روکا

ضمیر اپنا نہیں بیچا ضمیر اپنا نہیں بیچا

ماجد جہانگیر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1194) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majid Jahangir, Zameer Apna Nahi Becha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 54 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majid Jahangir.