Charhtay Darya Se Bhi Gir Par Utar Jao Gay

چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے

چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے

پانو رکھتے ہی کنارے پہ بکھر جاؤ گے

وقت ہر موڑ پہ دیوار کھڑی کر دے گا

وقت کی قید سے گھبرا کے جدھر جاؤ گے

خانہ برباد سمجھ کر ہمیں ڈھلتی ہوئی رات

طنز سے پوچھتی ہے کون سے گھر جاؤ گے

سچ کہو شام کی آوارہ ہوا کے جھونکو

اس کی خوشبو کے تعاقب میں کدھر جاؤ گے

آگے بڑھ جائیں گے پھر دونوں ہی چپ چپ، یوں تو

میں پکاروں گا تمہیں، تم بھی ٹھہر جاؤ گے

ضبط احساس کے زنداں سے کہیں بھاگ چلو

اور کچھ دیر یہاں ٹھہرے تو مر جاؤ گے

نقش امروز سے آگے نہ نگاہیں دوڑاؤ

کل کی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے

میں بھی سایہ ہوں سیہ رات میں کھو جاؤں گا

تم بھی اک خواب ہو پل بھر میں بکھر جاؤ گے

راستے شہر کے سب بند ہوئے ہیں تم پر

گھر سے نکلو گے تو مخمورؔ کدھر جاؤ گے

مخمور سعیدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(268) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Makhmoor Saeedi, Charhtay Darya Se Bhi Gir Par Utar Jao Gay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Makhmoor Saeedi.