Kasak Puranay Zamanay Ki Sath Laya Hai

کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے

کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے

ترا خیال کہ برسوں کے بعد آیا ہے

کسی نے کیوں مرے قدموں تلے بچھایا ہے

وہ راستہ کہ کہیں دھوپ ہے نہ سایا ہے

ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے

قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے

بتا رہی ہے یہ شدت اجاڑ موسم کی

شگفت گل کا زمانہ قریب آیا ہے

ہوائے شب سے کہو آئے پھر بجھانے کو

چراغ ہم نے سر شام پھر جلایا ہے

کہو یہ ڈوبتے تاروں سے دو گھڑی رک جائیں

نشان گم شدگاں مدتوں میں پایا ہے

بس اب یہ پیاس کا صحرا عبور کر جاؤ

ندی نے پھر تمہیں اپنی طرف بلایا ہے

فسون خواب تماشا کہ ٹوٹتا جائے

میں سو رہا تھا یہ کس نے مجھے جگایا ہے

سلگ اٹھے ہیں شرارے بدن میں کیوں مخمورؔ

خنک ہوا نے جو بڑھ کر گلے لگایا ہے

مخمور سعیدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(647) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Makhmoor Saeedi, Kasak Puranay Zamanay Ki Sath Laya Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Makhmoor Saeedi.