Kitni Diivarain Othi Hain Aik Ghar Ke Darmia

کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں

کون اب اس شہر میں کس کی خبر گیری کرے

ہر کوئی گم اک ہجوم بے خبر کے درمیاں

جگمگائے گا مری پہچان بن کر مدتوں

ایک لمحہ ان گنت شام و سحر کے درمیاں

ایک ساعت تھی کہ صدیوں تک سفر کرتی رہی

کچھ زمانے تھے کہ گزرے لمحہ بھر کے درمیاں

وار وہ کرتے رہیں گے زخم ہم کھاتے رہیں

ہے یہی رشتہ پرانا سنگ و سر کے درمیاں

کیا کہے ہر دیکھنے والے کو آخر چپ لگی

گم تھا منظر اختلافات نظر کے درمیاں

کس کی آہٹ پر اندھیروں میں قدم بڑھتے گئے

رونما تھا کون اس اندھے سفر کے درمیاں

کچھ اندھیرا سا اجالوں سے گلے ملتا ہوا

ہم نے اک منظر بنایا خیر و شر کے درمیاں

بستیاں مخمورؔ یوں اجڑیں کہ صحرا ہو گئیں

فاصلے بڑھنے لگے جب گھر سے گھر کے درمیاں

مخمور سعیدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(675) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Makhmoor Saeedi, Kitni Diivarain Othi Hain Aik Ghar Ke Darmia in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Makhmoor Saeedi.