Lafzon Ke Siya Pairahan Main Lipti Hoi Kuch Tanverain Hain

لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں

لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں

اے دیدہ ورو پہچانو تو کس ہاتھ کی یہ تحریریں ہیں

جاتی ہوئی رت کب رکتی ہے اے دل یہ عبث تدبیریں ہیں

جو قید ہواؤں کو کر لیں کیا ایسی بھی کچھ زنجیریں ہیں

نغمہ وہ کس نے چھیڑا ہے بچھڑے ہوئے غم سب آن ملے

آواز کی لہروں پر لرزاں سو مہر بہ لب تصویریں ہیں

آوارہ ہوا کے جھونکوں پر اکثر یہ گماں گزرا جیسے

یہ ہم سے پریشاں حالوں کی بے سمت و جہت تقدیریں ہیں

اس شہر میں لے کر آئے ہیں ہم شبنم و گل کی سوغاتیں

آنکھوں میں جہاں انگارے ہیں ہاتھوں میں جہاں شمشیریں ہیں

کچھ خواب اجالوں کے ہم نے دیکھے تھے مگر تا حد نظر

جو ظلمت بن کر پھیل گئیں کن خوابوں کی تعبیریں ہیں

کیوں آج کی جانی پہچانی شکلوں سے نظر مانوس نہیں

آنکھوں میں جو پھرتی رہتی ہیں کس دور کی یہ تصویریں ہیں

ہم اپنی ذات کے زنداں سے باہر جو نکل آئے بھی تو کیا

قدموں سے جو لپٹی پڑتی ہیں راہیں یہ نہیں زنجیریں ہیں

مخمور سعیدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(697) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Makhmoor Saeedi, Lafzon Ke Siya Pairahan Main Lipti Hoi Kuch Tanverain Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Makhmoor Saeedi.