مشہور شاعر منیش شکلا کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

کچھ پوشیدہ زخم عیاں ہو سکتے تھے

منیش شکلا

تمہاری داستانوں کے بہانے لکھ رہے ہیں ہم

منیش شکلا

جانے کس شے کے طلبگار ہوئے جاتے ہیں

منیش شکلا

لمحہ لمحہ درد ٹپکتا رہتا ہے

منیش شکلا

کسی بھی شے پہ آ جانے میں کتنی دیر لگتی ہے

منیش شکلا

زمیں کے ہاتھ یوں اپنا شکنجہ کس رہے تھے

منیش شکلا

خواب کا چہرہ پیلا پڑتے دیکھا ہے

منیش شکلا

آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے

منیش شکلا

یار ہماری بات نہ پوچھ

منیش شکلا

مخالفین کو حیران کرنے والا ہوں

منیش شکلا

سفر کے تصور سے سہما ہوا ہوں

منیش شکلا

زندگی کٹ گئی سرابوں میں

منیش شکلا

رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں

منیش شکلا

دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں

منیش شکلا

بھٹکتا کارواں ہے اور میں ہوں

منیش شکلا

محبت کی فراوانی مبارک

منیش شکلا

جینے کی تیاری چھوڑ

منیش شکلا

ہر لمحہ نم دیدہ رہنے کی عادت

منیش شکلا

نئے منظر سرابوں کے مری آنکھوں میں بھر دینا

منیش شکلا

فقیرانہ طبیعت تھی بہت بے باک لہجہ تھا

منیش شکلا

ضبط غم سے سوا ملال ہوا

منیش شکلا

رات کے درد کا مارا نکلا

منیش شکلا

اک اندھی دوڑ تھی، اکتا گیا تھا

منیش شکلا