Bomb ( Sunah ٢۰۱۰ )

بم (سنہ ٢۰۱۰ )

بم (سنہ ٢۰۱۰ )

پٹاخے پھوڑ تے تھے جو کل تک

پھاڑ رہے ہیں آج وہ بم

انگشت بدنگاں رہ گیا پرسوں

جو بچہ بولا آؤ کھیلیں بم بم

فاقے ہی سے مر جاتا بچارا

جو نہ بنتا وہ خود ایک بم

ٹرانسپورٹ ہو گی مہنگی لیکن

کبھی رکشے میں بچہ کبھی رکشے میں بم

مذہب کی امن پسندی کا کیا کیجئے

جو جنت کے لیے چاہیے فقط ایک بم

ہر کوئی پھٹ پڑنے کو ہے تیار

اس شہر میں لگے ھے ھر نفس ایک بم

مشین دیکھنے کے لیے آئے وہ

نہ جانے اب کہاں چھپائیں گے یہ بم

اک ہیپی کو جو کل سمجھا بیٹھا

بھنک کے بولا دوں گا اک کس کے بم

فیشن میں ہوئے ہیں کچھ ایسے دھماکے

کبھی جیکٹ میں بم تو کبھی انڈرویئر میں بم

مسعود الظفر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(989) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Masood Uzzafer, Bomb ( Sunah ٢۰۱۰ ) in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Masood Uzzafer.