Aan Kar Gham Qudah Deher Mein Jo Baithy Hum

آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہم

آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہم

شمع ساں اپنے تئیں آپ ہی رو بیٹھے ہم

عشق کے ہاتھ سے کشتیٔ شکستہ کی طرح

آپ اپنے تئیں رو رو کے ڈبو بیٹھے ہم

گر یہی تیرے اشارے ہیں تو مجلس سے تری

کوئی نہ کوئی آ کے اٹھا دیوے گا گو بیٹھے ہم

تم جو اٹھنے کو ہوئے تھے تو چلے تھے ہم بھی

اب جو یوں آپ کی مرضی ہے تو لو بیٹھے ہم

سینہ خالی نہیں ہوتا ہے نہ تھمتے ہیں اشک

کب سے روتے ہیں دل خوں شدہ کو بیٹھے ہم

غیر کہتے ہیں کہ ہم بیٹھنے دیویں گے نہ یاں

اب تو اس ضد سے جو کچھ ہووے سو ہو بیٹھے ہم

اشک آنکھوں سے تو معدوم ہوئے تھے کد کے

ہاتھ اب گریۂ خونی سے بھی دھو بیٹھے ہم

اور تو کچھ نہیں یاں اتنا خفا ہوتے ہو کیوں

کیا ہوا آپ کے نزدیک جو ہو بیٹھے ہم

آرزو دل کی بر آئی نہ حسنؔ وصل میں اور

لذت ہجر کو بھی مفت میں کھو بیٹھے ہم

میر حسن

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(277) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of MEER HASAN, Aan Kar Gham Qudah Deher Mein Jo Baithy Hum in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 84 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of MEER HASAN.