Daman Ko Is Ke Khinchin Aghyar Sab Taraf Se

دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سے

دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سے

اور آہ ہم یہ کھینچیں آزار سب طرف سے

جب کام دل نہ ہرگز حاصل ہوا کہیں سے

دل کو اٹھا کے بیٹھے ناچار سب طرف سے

جی چاہتا ہے اس کے کوچہ میں بیٹھ رہیے

کر ترک آشنائی یکبار سب طرف سے

تجھ پاس بھی نہ آویں ہم اب تو جائیں کیدھر

تو نے تو ہم کو کھویا اے یار سب طرف سے

مژگاں سے اس کے کیوں کر دل چھٹ سکے ہمارا

گھیرے ہوئے ہیں اس کو وے خار سب طرف سے

پردے ہزار ہوویں حائل پہ حسن اس کا

دیتا ہے طالبوں کو دیدار سب طرف سے

کونا بھی ایک دل کا ثابت نہیں یہ کس نے

اس گھر کو کر دیا ہے مسمار سب طرف سے

نالہ ضعیف اپنا پہنچے گا کیونکہ واں تک

کی ہے بلند اس نے دیوار سب طرف سے

اک بار تو عزیزاں تم مل کے حال میرا

کر بیٹھو اس کے آگے اظہار سب طرف سے

دیوانہ ہو کے چھوٹا دنیا سے ورنہ یاراں

ہوتے گلے کے میرے تم ہار سب طرف سے

وے دن بھی آہ کوئی کیا تھے کہ جن دنوں میں

دل کو خوشی تھی اپنے دل دار سب طرف سے

بس تیرے غم میں آ کر اب خاک ہو گئے ہم

دل بجھ گیا ہمارا اک بار سب طرف سے

ذکر وفا و الفت مت چھیڑ بس حسنؔ اب

جی ہو رہا ہے اپنا بیزار سب طرف سے

میر حسن

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(476) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of MEER HASAN, Daman Ko Is Ke Khinchin Aghyar Sab Taraf Se in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 84 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of MEER HASAN.