Yaan Se Pegham Jo Le Kar Gaye Maqool Gaye

یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئے

یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئے

اس کی باتوں میں لگے ایسے کہ سب بھول گئے

تو تو معشوق ہے تجھ کو تو بہت عاشق ہیں

غم انہوں کا ہے جو وہ جان سے نرمول گئے

بے کلی اپنی کا اظہار تو کرتا نہیں میں

گل رخاں دیکھ کے تم مجھ کو عبث بھول گئے

کیونکہ کھٹکا نہ رہے سب کو ادھر جانے کا

آہ کیا کیا نہ اسی خاک میں مقبول گئے

اپنی نیکی و بدی چھوڑ گئے دنیا میں

گرچہ دونوں نہ رہے قاتل و مقتول گئے

زلف میں اس کی بہت رہ کے نہ اترائیو دل

مجھ سے کتنے ہی مری جان یہاں جھول گئے

پہلی باتوں کا محبت کی حسنؔ ذکر نہ کر

بس وہ دستور گئے اور وہ معمول گئے

میر حسن

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(237) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of MEER HASAN, Yaan Se Pegham Jo Le Kar Gaye Maqool Gaye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 84 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of MEER HASAN.