Tairay Jalway Ka Jab Zahur Hota Hay

تیرے جلوے کا جب ظہور ہوتا ھے

تیرے جلوے کا جب ظہور ہوتا ھے

انگشت بدنداں مرا شعور ہوتا ھے

تو نہیں ھےکہیں بھی نظر کے سامنے

تو ہر جگہ لیکن ضرور ہوتا ہے

رخِ عاصی سے قدموں تک زمیں پہ ڈھیر ھوتی ھوں

سپردِخاک اس پل ہی میرا غرور ہوتا ھے

ترے دشمن لپکتے ہیں نفس پر اے مرے مولا

گناہوں کی وجہ سے جب تو مجھ سے دور ہوتا ہے

تو ہی اوپر، تو ہی نیچے، تو ہی آگے تو ہی پیچھے

تو ہی عالمِ ہے اس کا جو بین السطور ہوتا ھے

تیری رحمت بچا لیتی ھےمجھ کو اے مرے مالک

بندی کی عقل میں جب کوئی فتور ھوتا ھے

رخِ نوری کو کب یہ آنکھِ فانی دیکھ سکتی ھے

کہ جس کی اک تجلّی سے راکھ طور ہوتا ھے

دکھاتا ہے تو رستہ اس بھٹکتے کو ربِ عالم

اندھیروں میں بھٹک کر جو کہ تھک کر چور ہوتا ھے

ہے لگتا ہیچ مال و زر اس کے آگے دنیا کا

سبحانَ رب العلیٰ میں جو سرور ہوتا ھے

وفا کرتا ہے اس سے تو، سنبھلتا ہے وہ تھمتا ھے

دغا سے جو بھی دنیا کی بڑا مجبور ھوتا ھے

بڑی کمتر ترے آگے ھے ذرے سی سعی میری

کہ چند الفاظ سے کیسے ذکر بھرپور ھوتا ھے؟

نہیں پائی ھے محملؔ نے روشنی کوئی ایسی

ثنائے ربِ برتر میں جو اعلیٰ نور ھوتا ھے

محمل شیخ

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(940) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mehmal Sheikh, Tairay Jalway Ka Jab Zahur Hota Hay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 2 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mehmal Sheikh.