Kahin Pohncho Bhi Mujh Be Pa O Sir Tak

کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک

کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک

کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک

کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا

خذف سے لے کے دیکھا در تر تک

جسے شب آگ سا دیکھا سلگتے

اسے پھر خاک ہی پایا سحر تک

ترا منہ چاند سا دیکھا ہے شاید

کہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک

جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر

گیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک

ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک

پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک

کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوار

ولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک

گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق

کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک

یہی درد جدائی ہے جو اس شب

تو آتا ہے جگر مژگان تر تک

دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں

اگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک

کہاں پھر شور شیون جب گیا میرؔ

یہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک

میر تقی میر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(450) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mir Taqi Mir, Kahin Pohncho Bhi Mujh Be Pa O Sir Tak in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 269 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mir Taqi Mir.