Paye Khitaab Kya Kya Dekhe Atab Kya Kya

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا

کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوں

گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا

کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش

اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا

انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد

روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا

اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو

جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا

افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق

کہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا

پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے

گزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا

آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پر

تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا

کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میرؔ جی کو

کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا

میر تقی میر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(287) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mir Taqi Mir, Paye Khitaab Kya Kya Dekhe Atab Kya Kya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 269 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mir Taqi Mir.