Waisa Kahan Hai Hum Say Jaisa Ke Agay Tha To

ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو

ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو

اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو

چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سب

حاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو

جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہر سحر کے

یا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو

آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت

کڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو

تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہے

دس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو

تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے

گل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو

دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائی

دریائے حسن وہ مہ کشتی بکف گدا تو

ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کا

ہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو

عالم ہے شوق کشتۂ خلقت ہے تیری رفتہ

جانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو

منہ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہے

پر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو

آتی بہ خود نہیں ہے باد بہار اب تک

دو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو

کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا

کرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو

گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہے

ظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو

کہہ سانجھ کے موئے کو اے میرؔ روئیں کب تک

جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو

میر تقی میر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(627) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mir Taqi Mir, Waisa Kahan Hai Hum Say Jaisa Ke Agay Tha To in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 269 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mir Taqi Mir.