Sarkoon Per Aik Sel Bala Tha Logoon Ka

سڑکوں پر اک سیل بلا تھا لوگوں کا

سڑکوں پر اک سیل بلا تھا لوگوں کا

میں تنہا تھا اس میں کیا تھا لوگوں کا

دنیا تھی بے فیض رفاقت کی بستی

جیون کیا تھا اک صحرا تھا لوگوں کا

سود و زیاں کے مشکیزے پر لڑتے تھے

دل کا دریا سوکھ گیا تھا لوگوں کا

میں پہنچا تو میرا نام فضا میں تھا

ہنستے ہنستے رنگ اڑا تھا لوگوں کا

نفرت کی تحریریں ہر سو لکھی تھیں

دیواروں پہ رنگ چڑھا تھا لوگوں کا

میں ان کو وہ مجھ کو دیکھ کے ڈرتے تھے

شہر ستم تھا خوف بجا تھا لوگوں کا

کچھ لوگوں نے نفرت بوئی لوگوں میں

پھر سڑکوں پر خون بہا تھا لوگوں کا

ہنسنا بھولے ہنسی اڑانا سیکھ لیا

پہلے کب یہ رنگ ہوا تھا لوگوں کا

اب جو کہیں تو کس کو باور آئے گا

مہر و مروت طور رہا تھا لوگوں کا

دنیا میں تھا احمدؔ دنیا سے عاجز

خود کو گنوا کر سوچ رہا تھا لوگوں کا

محمد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(550) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mohammad Ahmad, Sarkoon Per Aik Sel Bala Tha Logoon Ka in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mohammad Ahmad.