ترے آئینے میں وہ گنبدِ بے در نہیں آیا

ترے آئینے میں وہ گنبدِ بے در نہیں آیا

جنوں کا عکس، حیراں و بچشمِ تر نہیں آیا

مدار اک اور سیارے کا یوں بھی دیکھنے نکلے

زمیں جس کے لیے آئے نظر محور نہیں آیا

بہت زریں مکانوں کے دریچے تھے دھنک جیسے

تمہارے در بدر کی راہ میں اک در نہیں آیا

یہ آنکھیں منتطر ہیں ماہِ کامل کے اترنے کی

مگر کردار حسن و عشق ہی چھت پر نہیں آیا

یہ خشک آنکھیں برستی ہیں وفا کے خارزاروں میں

جسے آنا تھا خوشبو کا وہی پیکر نہیں آیا

ہویدا جنگ کے آثار لوحِ رجز پر تو ہیں

میان و تیغ یا میدان میں خنجر نہیں آیا

مجھے تختِ تخیل اس طرف لایا نہیں خاورؔ

مقامِ دلبری تجھ تک کسی شہ پر نہیں آیا

مرید عباس خاور

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(878) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments