Aankhon Ke Iztiraab Se Aisay Jahray Hain Khawab

آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب

آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب

شب کے شجر پہ نیند کی صورت پڑے ہیں خواب

آتی نہیں ہے نیند مجھے اس لیے بھی دوست

آنکھوں کی پتلیوں میں ہزاروں جھڑے ہیں خواب

نکلا نہ پھر بھی کوئی نتیجہ بہار کا

تعبیر سے اگرچہ بہت ہی لڑے ہیں خواب

جب بھی چلا ہوں نیند کے رستے پہ یوں لگا

ہاتھوں کو جوڑ کر مرے آگے کھڑے ہیں خواب

دل سے غموں کا اس لیے چھالا نہ جا سکا

کانٹوں کی مثل چشم طلب میں اڑے ہیں خواب

تجھ کو کہاں خبر ہے کہ کیسے ہیں رت جگے

تجھ کو کہاں خبر ہے کہ کتنے کڑے ہیں خواب

اس بار بھی یہاں خس و خاشاک کی طرح

آنکھوں میں جس قدر تھے وہ سارے سڑے ہیں خواب

آیا نہیں نبیلؔ پلٹ کے وہ ایک شخص

رنجیدہ اس لیے بھی ہمارے بڑے ہیں خواب

نبیل احمد نبیل

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(354) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Nabeel Ahmed Nabeel, Aankhon Ke Iztiraab Se Aisay Jahray Hain Khawab in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 51 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Nabeel Ahmed Nabeel.