سانحہ ساہیوال (18 جنوری 2019)

پھر سے انسانیت کا قتل ہُوا

اور محبت نے خودکشی کر لی

باغ سارا مسل دیا تو پھر

تین پھولوں کی جان بخشی کیوں؟

تین پھولوں کی زندہ لاشوں کو

زندگی کون دے سکے گا اب؟

ان کے چہروں کی جوت بُجھ گئی ہے

گہری کالی سیاہ آنکھوں میں

خواہشیں بستی تھیں، دھڑکتی تھیں

خواب ہی خواب مسکراتے تھے

زندگی کھلکھلا کے ہنستی تھی

کیا ہُوا ان کے سارے خوابوں کا

کیا وہ بنجر زمیں کا نوحہ تھے؟

جن کو مارا ہے کہہ کے دہشت گرد

کوئی تو دھڑکنیں سُنو ان کی

نبض دیکھو، کوئی حرارت ہے؟

دھڑکنوں میں، نسوں کے اندر تک

ایک خواہش تو سانس لیتی ہو گی؟

اُجلی آنکھیں بھی ٹھیک سے دیکھو

ایک احساس ابھی بھی زندہ ہو گا

پورے جی جان سے دھڑکتا ہُوا؛

کیا کہا؟ ان کی اب کہانی ختم؟

کس نے دل میں لکیر کھینچ دی ہے

سرخ رنگوں کی قبر جیسی لکیر؟

کس نے ان خواہشوں کو مار دیا

اور سورج کے ٹکڑے کر ڈالے؟

چاند کی روشنی بجھا ڈالی

اور ستاروں کو اندھا کر ڈالا؟

کیا کسی کو یہاں خبر ہے کچھ؟

کون کامل ہے، کون ناقص ہے؟

کس کا تابوت ہے سرِ منزل؟

تین پھولوں کی زندہ لاشوں کو

زندگی کون دے سکے گا اب؟

باغ سارا مسل دیا تو پھر

تین پھولوں کی جان بخشی کیوں؟

ناہید ورک

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(302) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments