تاریخ سے باہر ایک آدمی

دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے

میں اُس کو دیکھتا ہوں

چھت کے اوپر

تار پر پھیلے ہوئے کپڑوں کے پیچھے

بے صدا پرچھائیوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے

اور نیچے

شور سے سہمی ڈری گلیوں میں

قدموں سے لپٹتی دھول ہے،

تاریخ چلتی ہے

دھمک سے کہنہ دیواریں لرزتی ہیں

گزرتا وقت سنگ و خشت سے آنکھیں رگڑتا ہے

دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے

کوئی لمحہ،

پلستر کا کوئی ٹکڑا اکھڑتا ہے

بدک کر اسپِ شاہی بھاگ اٹھتا ہے

دریچوں اور دروازوں کی درزوں سے

کئی چیخیں نکلتی ہیں

منڈیریں کانپ جاتی ہیں

دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے

میں اُس کو دیکھتا ہوں

سر جھکائے بے خبر چلتے ہوئے

لشکر کے بیچوں بیچ

بوسیدہ قبا پہنے

غلاموں کے ہجومِ نامشخؔص میں

دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے

میں اُس کو دیکھتا ہوں

تارکولی راستوں پر

دھوپ سے بچنے کی خاطر

ٹین کے چھجوں کے نیچے

یا کبھی شاموں کے کم گہرے اندھیرے میں

کتابوں کی دکانوں پر ۔۔۔۔۔۔ !

نصیر احمد ناصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(924) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments