Ab Jaan Kar Kiya Karo Ge

اب جان کر کیا کرو گے؟

سفر میں راستے کب طے ہوئے تھے

فاصلوں کے لاابد پھیلے گھماؤ میں

ازل سے وقت کا چلنا

دلوں کی دھڑکنوں سے مختلف کتنا ہے،

کس لاحاصلی کے جبر میں

بے عمر سانسوں کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ،

کہاں تم سے ملے تھے،

کون سی منزل پہ ٹھہرے، کس پڑاؤ پر رکے تھے،

کون سے مرکز پہ آ کر

زندگی کی گردشیں تھمنے لگی ہیں،

جان کر اب کیا کرو گے؟

درد کی لَے میں

ہوا صدیوں پرانا گیت گاتی ہے

مسافر بادباں کھلنے لگے ہیں

ہجر سر پر ہے

تمہارے خواب کی کشتی

مِری آنکھوں کے آبی راستوں میں ڈولتی ہے

کن سوالوں کی گرہ مضبوط کرنے میں لگے ہو تم؟

مجھے اس نیند کے تیرہ بہاؤ میں

ذرا سا لمس اپنی روشنی کا دان کر دو گے

تو میں ساری مسافت کی تھکن کو بھول جاؤں گا

سفر میں راستے کب طے ہوئے تھے

جان کر اب کیا کرو گے؟

نصیر احمد ناصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(538) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naseer Ahmed Nasir, Ab Jaan Kar Kiya Karo Ge in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naseer Ahmed Nasir.