Dekh Sakte Ho Tu Dekho

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے

ویرانیاں تاریخ کی

مقدونیہ کی سمت جاتے راستوں پر دھول اُڑتی ہے

مقدر کے سکندر جا چکے ہیں

قونیہ کی میخ کے چاروں طرف

کُنڈل بنائے

گھومتے قدموں کی چاپیں

اب کسی بے وقت لمحے کی صدائے جاں گُزا ہیں

اب کسی درویش کی ایڑی میں دَم باقی نہیں

روشن لکیریں بجھ چکی ہیں

محو ہوتے جا رہے ہیں

رقص کے سب سلسلے

بغداد پر چیلیں جھپٹتی ہیں

دمشقی دھات کے

پھل دار ہتھیاروں کی دھاریں کند ہیں

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو !

اب تمہارے خواب کی گہرائیوں میں

دل دھڑکنے کے بجائے

بِس بھری آنکھوں کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں

کورِنتھی ستونوں سے بنی کہنہ عمارت میں

نئی دنیا کے دھاری دار سانپوں کا بسیرا ہے

طلسمی غار میں

خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں

سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے!

نصیر احمد ناصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(453) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naseer Ahmed Nasir, Dekh Sakte Ho Tu Dekho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naseer Ahmed Nasir.