Araish Khayal Bhi Ho Dil Kusha Bhi Ho

آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو

یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید

اس رنج بے خمار کی اب انتہا بھی ہو

یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر

جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

ٹوٹے کبھی تو خواب شب و روز کا طلسم

اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو

دیوانگئ شوق کو یہ دھن ہے ان دنوں

گھر بھی ہو اور بے در و دیوار سا بھی ہو

جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں

رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو

ہر ذرہ ایک محمل عبرت ہے دشت کا

لیکن کسے دکھاؤں کوئی دیکھتا بھی ہو

ہر شے پکارتی ہے پس پردۂ سکوت

لیکن کسے سناؤں کوئی ہم نوا بھی ہو

فرصت میں سن شگفتگئ غنچہ کی صدا

یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو

بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے

کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو

بزم سخن بھی ہو سخن گرم کے لیے

طاؤس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو

ناصر کاظمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1653) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Nasir Kazmi, Araish Khayal Bhi Ho Dil Kusha Bhi Ho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 100 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Nasir Kazmi.