Internet

انٹر نیٹ

انٹر نیٹ

یہ کیسا فریب نگر ہے

تمہارے بعد کبھی کبھی

ہم بھٹکتے بھٹکتے

سنبھل سے گئے

جو سنبھلے تو سنبھلتے گئے

بھانت بھانت کے لوگ

چہرے پہ چہرے پہنے

ایک دوسرے کا عکس ہے

اصل چھپا کے جھوٹ کے پلندے

ہم بھی کبھی کبھی ایسے ہوئے

بے رنگ بے عکس بے معنی ہوئے

لیکن یہ سچ ہے

تمہارے لیے میری وفا میں

کمی نہ ہوئی کبھی

ہر عکس میں گُماں گزرا

کہ شاید یہ تُم ہو!

شاید یہ تُم ہو!

مگر یہ فریبِ نگر ہے

یہاں رہ کر کسی نے کچھ نہ پایا

چہرے بدلتے بدلتے اپنا روپ گنوایا

یہاں ہر جھوٹ بھی سچ لگتا ہے

اور ہر سچ مجھے اب جھوٹ لگتا ہے۔

نسرین منہاس

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(785) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Nasreen Minhas, Internet in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 25 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Nasreen Minhas.