Kiya Hai Hijar Ne Yun Jaan Ba Lab Khuda Ki Panah

کیا ہے ہجر نے یوں جاں بہ لب، خدا کی پناہ

کیا ہے ہجر نے یوں جاں بہ لب، خدا کی پناہ

کٹے گی درد بھری کیسے شب، خدا کی پناہ

سماعتیں بھی ہیں گروی امیرِ شہر تری

نہیں تو سنتا ہے سن کر بھی اب، خدا کی پناہ

ستم غریب پہ ہونے کا سلسلہ ٹوٹے

بہت ہوا، کہو ہو گا یہ کب؟ خدا کی پناہ

وہ جن کو انگلی پکڑ کر سکھایا تھا، ان میں

لحاظ ہے نہ کوئی ہے ادب ، خدا کی پناہ

دکھا دی ذات بٹھایا ہے جس کو مسند پر

کہاں کا نام کہاں کا نسب، خدا کی پناہ

نہ جانے حشر کے دن اپنا کیا ٹھکانا ہو

اگر نہ بخشے گناہوں کو رب، خدا کی پناہ

زمیں پہ جو بھی ہے فتنہ، اے بے عمل عالم

کیا دھرا ہے ترا ہی یہ سب ، خدا کی پناہ

عدو نے گھیر لیا ہم کو ، پر یہ بے خبری

سجا کے بیٹھے ہیں بزمِ طرب، خدا کی پناہ

وہ جن کو ہم نے عطا کی ہیں خلعتیں نسرینؔ

ہمی پہ ان کے ہیں غیض و غضب، خدا کی پناہ

نسرین سید

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(448) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Nasreen Syed, Kiya Hai Hijar Ne Yun Jaan Ba Lab Khuda Ki Panah in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 54 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Nasreen Syed.