Raqs Ki Raat

رقص کی رات

رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن

اس لیے بن نہ سکی راہ تمنا کی دلیل

کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ

جس سے تنویر مرے سینۂ غم ناک میں ہے

ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے

اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے!

رقص کی رات کوئی دور طرب

بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش؟

محور حال بھی ہو، جادۂ آئندہ بھی

اور دونوں میں وہ پیوستگئ شوق بھی ہو

جو کبھی ساحل و دریا میں نہ تھی،

پھر بھی حائل رہے یوں بعد عظیم

لب ہلیں اور سخن آغاز نہ ہو

ہاتھ بڑھ جائیں مگر لامسہ بے جان رہے؟

تجھے معلوم نہیں،

اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوں

جیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تیرہ نصیب

سخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے:

کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھے

اس غم مرگ تہہ آب سے آزاد کرے

رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوا

دامن زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوں،

لیکن اس تختۂ نازک سے یہ امید کہاں

کہ یہ چشم و لب ساحل کو کبھی چوم سکے!

ن م راشد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2313) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Noon Meem Rashid, Raqs Ki Raat in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Noon Meem Rashid.