Samandar Ki Teh Main

سمندر کی تہ میں

سمندر کی تہ میں

سمندر کی سنگین تہ میں

ہے صندوق

صندوق میں ایک ڈبیا میں ڈبیا

میں ڈبیا

میں کتنے معانی کی صبحیں

وہ صبحیں کہ جن پر رسالت کے دربند

اپنی شعاعوں میں جکڑی ہوئی

کتنی سہمی ہوئی!

(یہ صندوق کیوں کر گرا؟

نہ جانے کسی نے چرایا؟

ہمارے ہی ہاتھوں سے پھسلا؟

پھسل کر گرا؟

سمندر کی تہ میں مگر کب؟

ہمیشہ سے پہلے

ہمیشہ سے بھی سالہا سال پہلے؟)

اور اب تک ہے صندوق کے گرد

لفظوں کی راتوں کا پہرا

وہ لفظوں کی راتیں

جو دیووں کی مانند

پانی کے لس دار دیووں کے مانند

یہ لفظوں کی راتیں

سمندر کی تہ میں تو بستی نہیں ہیں

مگر اپنے لا ریب پہرے کی خاطر

وہیں رینگتی ہیں

شب و روز

صندوق کے چار سو رینگتی ہیں

سمندر کی تہ میں!

بہت سوچتا ہوں

کبھی یہ معانی کی پاکیزہ صبحوں کی پریاں

رہائی کی امید میں

اپنے غواص جادو گروں کی

صدائیں سنیں گی؟

ن م راشد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1997) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Noon Meem Rashid, Samandar Ki Teh Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Noon Meem Rashid.