To Bhi Faryadi Howa Tha Iltija Mein Nay Bhi Ki

تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی

تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی

تو نہ تھا مجرم اکیلا ہاں خطا میں نے بھی کی

ظلم دونوں نے کیا تھا دونوں تھے اس میں شریک

ابتدا گر تو نے کی تو انتہا میں نے بھی کی

صرف تو نے ہی نہیں کی جستجوئے چارہ گر

درد جب حد سے بڑھا تو کچھ دوا میں نے بھی کی

کس نے کیا مانگا فلک سے اور کس کو کیا ملا

ہاتھ تو نے بھی اٹھائے تھے دعا میں نے بھی کی

میں ترا حصہ نہ بن پایا یہ اچھا ہی ہوا

گو یہ خواہش اے ہجوم دل ربا میں نے بھی کی

سبزۂ بیگانہ سے رشتہ مرا کچھ کم نہیں

اس چمن کی آبیاری اے گھٹا میں نے بھی کی

عبید صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(618) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Obaid Siddiqi, To Bhi Faryadi Howa Tha Iltija Mein Nay Bhi Ki in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 38 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Obaid Siddiqi.