Kocha Ishq Se Koch Khawab Utha Kar Le Aaye

کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے

کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے

تھے گدا تحفۂ نایاب اٹھا کر لے آئے

کون سی کشتی میں بیٹھیں ترے بندے مولا

اب جو دنیا کوئی سیلاب اٹھا کر لے آئے

ہائے وہ لوگ گئے چاند سے ملنے اور پھر

اپنے ہی ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا کر لے آئے

ایسا ضدی تھا مرا عشق نہ بہلا پھر بھی

لوگ سچ مچ کئی مہتاب اٹھا کر لے آئے

سطح ساحل نہ رہی جب کوئی قیمت ان کی

ہم خزانوں کو تہہ آب اٹھا کر لے آئے

جب ملا حسن بھی ہرجائی تو اس بزم سے ہم

عشق آوارہ کو بیتاب اٹھا کر لے آئے

اس کو کم ظرفی رندان گرامی کہیے

نشے چھوڑ آئے مئے ناب اٹھا کر لے آئے

انجمن سازئ ارباب ہنر کیا کہیے

ان کو وہ اور انہیں احباب اٹھا کر لے آئے

ہم وہ شاعر ہمیں لکھنے لگے جب لوگ تو ہم

گفتگو کے نئے آداب اٹھا کر لے آئے

خواب میں لذت یک خواب ہے دنیا میری

اور مرے فلسفی اسباب اٹھا کر لے آئے

عبید اللہ علیم

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(609) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Obaidullah Aleem, Kocha Ishq Se Koch Khawab Utha Kar Le Aaye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 55 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Obaidullah Aleem.