Zameen Jab Bhi Hui Karbalaa Hamaray Liye

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیے

انہیں غرور کہ رکھتے ہیں طاقت و کثرت

ہمیں یہ ناز بہت ہے خدا ہمارے لیے

تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے

وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لیے

بس ایک لو میں اسی لو کے گرد گھومتے ہیں

جلا رکھا ہے جو اس نے دیا ہمارے لیے

وہ جس پہ رات ستارے لیے اترتی ہے

وہ ایک شخص دعا ہی دعا ہمارے لیے

وہ نور نور دمکتا ہوا سا اک چہرا

وہ آئینوں میں حیا ہی حیا ہمارے لیے

درود پڑھتے ہوئے اس کی دید کو نکلیں

تو صبح پھول بچھائے صبا ہمارے لیے

عجیب کیفیت جذب و حال رکھتی ہے

تمہارے شہر کی آب و ہوا ہمارے لیے

دیئے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے

تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لیے

زمین ہے نہ زماں نیند ہے نہ بے داری

وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے

سخن وروں میں کہیں ایک ہم بھی تھے لیکن

سخن کا اور ہی تھا ذائقہ ہمارے لیے

عبید اللہ علیم

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1634) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Obaidullah Aleem, Zameen Jab Bhi Hui Karbalaa Hamaray Liye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 55 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Obaidullah Aleem.