مشہور شاعر پروین شاکر کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں

پروین شاکر

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں

پروین شاکر

تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں

پروین شاکر

تتلیاں پکڑنے میں دور تک نکل جانا

پروین شاکر

پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے

پروین شاکر

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

پروین شاکر

بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکن

پروین شاکر

بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک

پروین شاکر

بوجھ اٹھائے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک

پروین شاکر

بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے

پروین شاکر

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی

پروین شاکر

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

پروین شاکر

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

پروین شاکر

بارہا تیرا انتظار کیا

پروین شاکر

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی

پروین شاکر

ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے

پروین شاکر

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

پروین شاکر

اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر

پروین شاکر

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

پروین شاکر

اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہوگا کوئی

پروین شاکر

اس نے مجھے دراصل کبھی چاہا ہی نہیں تھا

پروین شاکر

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

پروین شاکر

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

پروین شاکر

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

پروین شاکر

Records 1 To 24 (Total 140 Records)