Tari Khushbu Ka Pata Karti Hai

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے

چوم کر پھول کو آہستہ سے

معجزہ باد صبا کرتی ہے

کھول کر بند قبا گل کے ہوا

آج خوشبو کو رہا کرتی ہے

ابر برستے تو عنایت اس کی

شاخ تو صرف دعا کرتی ہے

زندگی پھر سے فضا میں روشن

مشعل برگ حنا کرتی ہے

ہم نے دیکھی ہے وہ اجلی ساعت

رات جب شعر کہا کرتی ہے

شب کی تنہائی میں اب تو اکثر

گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے

دل کو اس راہ پہ چلنا ہی نہیں

جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے

زندگی میری تھی لیکن اب تو

تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے

اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ

دل کا احوال کہا کرتی ہے

مصحف دل پہ عجب رنگوں میں

ایک تصویر بنا کرتی ہے

بے نیاز کف دریا انگشت

ریت پر نام لکھا کرتی ہے

دیکھ تو آن کے چہرہ میرا

اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے

زندگی بھر کی یہ تاخیر اپنی

رنج ملنے کا سوا کرتی ہے

شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد

کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے

مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا

فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے

مجھ سے بھی اس کا ہے ویسا ہی سلوک

حال جو تیرا انا کرتی ہے

دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاں

بات کچھ اور ہوا کرتی ہے

پروین شاکر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(852) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Parveen Shakir, Tari Khushbu Ka Pata Karti Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 110 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Parveen Shakir.