Kaho Faraar Se Bandhay Nah Paon Mein Ankhen

کہو فرار سے باندھے نہ پاؤں میں آنکھیں

کہو فرار سے باندھے نہ پاؤں میں آنکھیں

قدم قدم پہ بچھی ہیں دشاؤں میں آنکھیں

نہ جانے کون سی ہوگی تلاش کی منزل

بھٹک رہی ہیں ابھی تک خلاؤں میں آنکھیں

کراہ اٹھی تھی سرگوشی کوئی چپکے سے

لگی تھی ٹھیس کہ اگ آئیں پاؤں میں آنکھیں

پرندے اب نہیں منظر گزارنے والے

ہزار خواب سجائیں فضاؤں میں آنکھیں

پہاڑیاں ہوئی عرفان آگہی سے بہار

جو معتکف ہوئیں اندھی گپھاؤں میں آنکھیں

بکھرتے شہروں کے منظر انہیں دکھاؤ بھی

امید سے ہیں بہت اب کے گاؤں میں آنکھیں

فضا نشین ہے تیزاب روشنی پرویزؔ

نکلتے ڈرتی ہیں اب تو ہواؤں میں آنکھیں

پرویز رحمانی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(315) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of PARWEZ RAHMANI, Kaho Faraar Se Bandhay Nah Paon Mein Ankhen in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 32 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of PARWEZ RAHMANI.